پشاور( پاکستان خبر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت شعبہ تعلیم میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری اقدامات اور آئندہ منصوبہ بندی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں شرح خواندگی میں اضافے، دور دراز علاقوں میں کمیونٹی سکولوں کے قیام اور ڈبل شفٹ سکول پروگرام کی توسیع پر تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے کورسز کے اجرا پر بھی اتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ تعلیمی نظام میں جدید سائنسی اور تحقیقی رجحانات کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام تجاویز پر مزید تفصیلی اجلاس منعقد کیا جائے اور ایک مربوط لائحہ عمل جلد از جلد حتمی شکل دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی۔سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے صوبائی حکومت کی خصوصی توجہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر مرکوز ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم اور صحت عوام کی بنیادی ضروریات ہیں اور حکومت ان شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا ہدف تعلیمی نظام میں جامع تبدیلی لانا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔اجلاس میں ای ٹرانسفر پالیسی، یکساں نصاب، مانیٹرنگ نظام، اساتذہ کی تربیت، ورچوئل سکولنگ اور جدید تعلیمی کورسز پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ شرح خواندگی بڑھانے کے لیے نئے فریم ورک پر غور کی ہدایت بھی دی گئی۔
خیبر پختونخوا میں تعلیمی اصلاحات تیز، کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے گا: وزیراعلیٰ
6 گھنٹے قبل