لاہور ( پاکستا ن خبر) پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن بنیان مرصوص کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، جو وسیع تر تنازع کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جسے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے معرکہ حق کا نام دیا تھا۔یہ کارروائی بائیس اپریل دو ہزار پچیس سے دس مئی دو ہزار پچیس تک جاری رہی اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم موڑ قرار دی جاتی ہے۔ اس کا آغاز پہلگام کے علاقے میں ایک مہلک واقعے کے بعد ہوا جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کیے جنہیں پاکستان نے سختی سے مسترد کیا۔ حکام اور تجزیہ کاروں نے اس واقعے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیا جبکہ عالمی سطح پر بھی مختلف سوالات اٹھائے گئے۔بعد ازاں کشیدگی کا دائرہ سفارتی، اطلاعاتی اور عسکری محاذ تک پھیل گیا۔ فضائی جھڑپوں کے دوران دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان شدید مقابلہ ہوا جس میں پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی طیاروں کو نقصان پہنچا۔چھ اور سات مئی کی رات صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے بعد دس مئی کو پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا جسے محدود مگر فیصلہ کن ردعمل قرار دیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایک مشترکہ عسکری کارروائی تھی جس میں بری، بحری، فضائی اور سائبر صلاحیتوں کو استعمال کیا گیا۔ مختلف بھارتی فوجی تنصیبات اور دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔اس دوران سائبر اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو نمایاں قرار دیا گیا جبکہ ملک کے اندر مختلف محاذوں پر سکیورٹی چیلنجز سے بھی نمٹا گیا۔حکام کے مطابق اس پورے عرصے میں قومی سطح پر غیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آیا اور اسے مربوط حکمت عملی اور عسکری تیاری کی ایک اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔