اسلام آباد ( پاکستان خبر)اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی مرضی کے بغیر دوسرے صوبوں میں تبادلے سے متعلق آئینی ترمیم پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کے تبادلے کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اٹھائیس اپریل کو طلب کر لیا ہے۔ اجلاس دوپہر ایک بجے اسلام آباد میں ہوگا جس کی صدارت وہ بطور چیئرمین کریں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس بابر ستار سمیت پانچ ججز کے نام تبادلے کے لیے زیر غور آئیں گے۔منصوبے کے مطابق دو ججز کو لاہور ہائی کورٹ جبکہ باقی تین ججز کو بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا ہائی کورٹس میں منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق غیر رسمی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور تبادلوں کا فیصلہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔واضح رہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل دو سو میں تبدیلی کے بعد ججز کے تبادلے کے لیے ان کی رضامندی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل جج کی رضا مندی ضروری قرار دی جاتی تھی۔اب نئی ترمیم کے تحت تبادلے کے عمل میں رضامندی لازم نہیں رہی اور کمیشن کے فیصلے کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔