آئندہ بجٹ میں سخت اصلاحات، ریلیف بھی شامل

5 گھنٹے قبل
آئندہ بجٹ میں سخت اصلاحات، ریلیف بھی شامل

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کا بجٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق بجٹ آئندہ سال جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور ہیں جبکہ سپر ٹیکس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی مشاورت سے بتدریج کمی کی جائے گی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے اضافے کی بھی تجویز شامل ہے جس کے تحت سہ ماہی رقم ساڑھے چودہ ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزار روپے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں مختلف شعبوں کو دی جانے والی انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ خصوصی اقتصادی زونز سمیت نئی ٹیکس چھوٹ یا استثنا نہیں دیا جائے گا۔مزید یہ کہ خصوصی اقتصادی زونز کو پہلے سے حاصل ٹیکس چھوٹ بھی ختم کرنے اور برآمدی زونز میں تیار مصنوعات کی مقامی مارکیٹ میں فروخت پر پابندی لگانے کی تجویز شامل ہے۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اور بروقت اضافے کو لازمی قرار دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پر زور دیا ہے۔اس کے علاوہ وفاقی ادارہ محصولات کے آڈٹ نظام کو مزید مضبوط اور مرکزی بنانے کی تجویز ہے جبکہ نئے اقتصادی زونز کے قیام پر فی الحال پابندی برقرار رہے گی۔ذرائع نے بتایا کہ زرمبادلہ سے متعلق پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور دو ہزار ستائیس تک پاکستان میں ریگولیٹری رجسٹری کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔