طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، دہشت گردی و پابندیوں سے متعلق نئی رپورٹ منظر عام پر آ گئی

6 گھنٹے قبل
طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، دہشت گردی و پابندیوں سے متعلق نئی رپورٹ منظر عام پر آ گئی

کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک)افغان طالبان حکومت افغان طالبان مبینہ طور پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اور شدید سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے باعث طالبان حکومت پر عالمی برادری کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔امریکی تحقیقاتی ادارے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے تقریباً 55 ارکان اور عہدیداروں کے القاعدہ سے براہِ راست یا بالواسطہ روابط کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ بعض رہنماؤں کو ماضی میں تشدد پر مبنی کارروائیوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔افغان میڈیا ادارے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی کابینہ کے متعدد ارکان پہلے ہی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ بعض اعلیٰ عہدیداروں کے اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان سے وابستہ درجنوں افراد اور ادارے عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جس کے باعث ان کے بین الاقوامی روابط محدود ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایسے الزامات اور پابندیوں کی صورتحال افغانستان کی حکومت کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، اور خطے میں اس کی سیاسی و معاشی تنہائی کو مزید بڑھا رہی ہے۔