نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) مودی حکومت نے عالمی سطح پر ایک اہم ماحولیاتی ایونٹ سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس COP33 کی میزبانی سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت نے 2028 میں ہونے والی اس کانفرنس کی میزبانی کی پیشکش واپس لے لی ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ فیصلہ ایک بڑا یوٹرن سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے 2023 میں دبئی میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران 2028 ایونٹ کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔رپورٹس کے مطابق یہ اقدام صرف ایک ایونٹ کی منسوخی نہیں بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت پہلے ہی اپنے بعض ماحولیاتی اہداف اور ڈیڈ لائنز پر عملدرآمد میں تاخیر کا شکار رہا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارت کے گلوبل ساوتھ میں ماحولیاتی قیادت کے دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی پالیسیوں کے حوالے سے اس کے کردار پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔دوسری جانب دہلی کی شدید فضائی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، جہاں شہر کو مسلسل دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، جس سے خطے کی مجموعی ماحولیاتی صورتحال پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
بھارت کے ماحولیاتی کانفرنس کی میزبانی سے دستبرداری پر سوالات اٹھ گئے
6 گھنٹے قبل