واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، تہران اور واشنگٹن آمنے سامنے

6 گھنٹے قبل
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، تہران اور واشنگٹن آمنے سامنے

واشنگٹن، تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکا نے خلیج عمان میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد ایران نے اس اقدام کو “مسلح بحری ڈکیتی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو رکنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم مبینہ طور پر حکم کی تعمیل نہ ہونے پر امریکی بحریہ نے اسے تحویل میں لے لیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو جہاز کو روکتے اور بعد ازاں کارروائی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچانے اور عملے کی نقل و حرکت روکنے کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے نہ صرف جارحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ سمندری قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ایرانی فوج کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی، اس کے نیویگیشن سسٹم کو متاثر کیا اور مسلح اہلکار جہاز پر اتار کر قبضے کی کوشش کی۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بھرپور اور مناسب جواب دیا جائے گا، جبکہ صورتحال کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق خلیج عمان جیسے حساس آبی راستے میں اس نوعیت کے واقعات عالمی توانائی سپلائی اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔