تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا کے طرزِ عمل کو سفارتکاری کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل اور مذاکرات کے حوالے سے جلد فیصلہ کرے گا۔عالمی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کے غیر قانونی اقدامات اور متضاد بیانات سفارتی دعوؤں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور جلد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے حتمی مؤقف اختیار کرے گا۔روسی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امن کو خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات میں موجود ہے اور فریقین کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی، جس میں جنگ بندی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایران نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا تاہم امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیز اقدامات کے الزامات بھی عائد کیے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی بدھ کی شام تک ختم ہو سکتی ہے اور کسی معاہدے کے بغیر اس میں توسیع کا امکان کم ہے۔
ایران نے امریکا کے طرزِ عمل کو سفارتکاری کے اصولوں کے منافی قرار دیدیا
1 دن قبل