لندن( مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک کثیرالملکی فوجی اتحاد کے قیام کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس میں تیس سے زائد ممالک کے عسکری حکام لندن میں اہم اجلاس میں شریک ہوں گے۔برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ اجلاس بدھ کے روز لندن کے علاقے نارتھ ووڈ میں واقع پرمننٹ جوائنٹ ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگا اور دو روز تک جاری رہے گا۔ اجلاس میں شریک ممالک اپنی عسکری صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور خطے میں ممکنہ تعیناتی کے طریقہ کار پر غور کریں گے۔وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس اجلاس میں تیار کیے جانے والے فوجی منصوبے کسی ممکنہ جنگ بندی کے بعد حالات سازگار ہونے پر فوری طور پر عملی شکل دیے جا سکیں گے۔اس سے قبل برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اکیاون ممالک پر مشتمل ایک ورچوئل سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ دفاعی مشن کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔برطانوی وزیر دفاع نے کہا کہ اصل چیلنج سفارتی اتفاق رائے کو عملی منصوبے میں تبدیل کرنا ہے تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور تیل و گیس کی ترسیل میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے برطانیہ فرانس کا فوجی اتحاد منصوبہ سامنے آ گیا
5 گھنٹے قبل