کراچی( کامرس ڈیسک)بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی معیشت پر اعتماد بدستور قائم ہے، جہاں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت اپریل 2026 تک مجموعی طور پر 12 ارب 74 کروڑ 70 لاکھ ڈالر موصول ہوئے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ اسکیم بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور ملک کے زرمبادلہ کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔مرکزی بینک کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے اب تک 2 ارب 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر بیرون ملک واپس منتقل کیے گئے، جبکہ 8 ارب 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پاکستان میں مختلف شعبوں میں استعمال کیے گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس اسکیم کے تحت خالص قابلِ واپسی واجبات کی مجموعی مالیت 2 ارب 54 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی۔نومبر 2020 سے اپریل 2026 تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے مجموعی خالص سرمایہ کاری 1 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی، جو اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔سرمایہ کاری کے شعبے میں اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس سب سے زیادہ مقبول رہے، جن میں 1 ارب 15 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 55 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سامنے آئی۔اس کے علاوہ روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ کے ذریعے بھی 12 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔معاشی ماہرین کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام نے نہ صرف بیرونِ ملک پاکستانیوں کو محفوظ اور آسان سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا ہے بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی سرمایہ کاری، 12 ارب ڈالر سے زائد کی آمد
4 دن قبل