تازہ ترین
میدویدیف تماشائی کو گیند لگنے پر نااہل،بیجنگ اوپن ورلڈکپ 2027: پاکستان، بھارت سمیت 10 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرگئیں سلمان آغا کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی ختم، ٹیم سے بھی باہر ہوگئے حیدرآباد کا نیاز اسٹیڈیم 20 سال کیلئے پی سی بی کے حوالے وزیراعظم کی سردیوں میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت ایل این جی فراہمی میں خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ آئی ایم ایف کا صوبائی صحت، تعلیم اخراجات کا ہدف کم کرنے پر غور پاکستان کی 16 ممالک میں گوشت برآمد کرنے کی بنیاد قائم ہوگئی نائجیریا میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، 32 افراد جاں بحق آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک برطانوی اڈے سے بی ون بمبار طیارے واپس بلا لیے گئے، وینس سرخی: ایران کی خلیجی ممالک کو خبردار، سرزمین حملوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں حکومت اور اپوزیشن میں 24 گھنٹوں میں مذاکرات کی امید، فواد چودھری اپنی چھت اپنا گھر، عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے پر جواب خیبرپختونخوا کی صورتحال، صدر اور وزیراعظم میں آج اہم مشاورت پرائیویٹ استاد
پاکستان خبر

ریٹائرڈ روبوٹس کو پگھلانے کی انوکھی تجویز، آرنلڈ شوارزنیگر کا مشورہ

ریٹائرڈ روبوٹس کو پگھلانے کی انوکھی تجویز، آرنلڈ شوارزنیگر کا مشورہ

 کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) انسان نما روبوٹس تیار کرنے والی امریکی کمپنی فِیگر نے اپنے تقریباً دو سال پرانے روبوٹس ریٹائر کرنے کے بعد انہیں ختم کرنے کے لیے غیر معمولی طریقہ اختیار کیا۔کمپنی کے بانی اور سربراہ بریٹ ایڈکاک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین سے پوچھا کہ ریٹائر کیے جانے والے روبوٹس کو کس انداز میں الوداع کہا جائے۔اس سوال پر ہالی ووڈ اداکار آرنلڈ شوارزنیگر کی تجویز سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔ انہوں نے مختصر مشورہ دیا کہ روبوٹس کو پگھلا دیا جائے۔ شوارزنیگر 1984ء کی مشہور فلم دی ٹرمینیٹر میں ایک سائبورگ قاتل کا کردار ادا کرچکے ہیں۔فِیگر نے روبوٹس کو پگھلانے کے لیے امریکا اور میکسیکو کی متعدد دھاتی فاؤنڈریوں سے رابطہ کیا، تاہم لیتھیم آئن بیٹریوں سے لیس ان روبوٹس کو قیمتی صنعتی مشینری میں ڈالنے پر کوئی فاؤنڈری تیار نہ ہوئی۔بالآخر کیلیفورنیا میں قائم کمپنی نے روبوٹس کو فن لینڈ کے شہر ایمترا کی ایک فاؤنڈری منتقل کیا، جہاں انہیں پگھلانے کا عمل مکمل کیا گیا۔کمپنی کے مطابق اس طریقے کے لیے خصوصی تیاری اور تربیت درکار تھی، تاہم روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ عمل زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔فِیگر کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی آلات سے لیس روبوٹس کے پورے بیڑے کو آخری مرحلے تک پہنچانا آسان نہیں تھا۔ یوں دی ٹرمینیٹر کے مشہور جملے ’’میں واپس آؤں گا‘‘ کے برعکس ان روبوٹس کی دوبارہ واپسی کا کوئی امکان نہیں رہا۔