واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی اور جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ بات چیت ختم کی جائے یا اسے جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کا جلد کوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آجائے گا۔امریکی ٹی وی چینل نیوز نیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر رابطے ہو رہے ہیں، تاہم مذاکرات کے مستقبل کا فیصلہ جلد کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران سے متعلق اہم پیش رفت امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد سامنے آئے گی، لیکن آنے والے دن اہم ہیں اور صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکا اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے اور اسے فوجی و مالی دونوں محاذوں پر برتری حاصل ہے۔دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے منصوبے پر کام جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائل و ڈرون کے ذخائر ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں کی نومبر کے آغاز تک تیاری مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران نئے حملوں کے امکان پر بھی گفتگو کی۔ امریکا اور اسرائیل ممکنہ کارروائیوں کی تیاری کے لیے عراق کی فضائی حدود میں فوجی مشقیں بھی کر رہے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق نئے حملوں سے ایران کی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم ان کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے حوالے سے شکوک بھی موجود ہیں۔ اس سے قبل ایران پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال نئے حملوں کی حتمی منظوری نہیں دی، اس لیے فوجی کارروائی کا امکان موجود ہونے کے باوجود اسے حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں