تازہ ترین
پاکستان کی ترقی کیلئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، مصطفیٰ کمال بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، خواجہ آصف خیبر پختونخوا کو جلتا نہیں چھوڑ سکتے، گورنر راج مجبوری میں لگانا پڑا: وزیراعظم ہر سیاسی جماعت میں جاگیردار موجود ہیں، 42 سال سے سیاست کی نرسری بند ہے: حافظ نعیم؎ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیثِ نبوی ﷺ سنائی آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے امریکا کو ایرانی شرائط ماننا ہوں گی: عراقچی پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول ایل پی جی کی مصنوعی قلت کا خدشہ، اوگرا کو کارروائی کی ہدایت ایران کی نئی دھمکی، جنگ ہوئی تو انٹرنیٹ کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز بھی نشانے پر آسکتے ہیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ مریخ پر پراسرار سفید بادل کی تشکیل سے متعلق اہم انکشاف صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ٓ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا میں جائے گا پی ایچ پی کی سنگین خامیاں، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی بند
پاکستان خبر

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو رہی اور جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ بات چیت ختم کی جائے یا اسے جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کا جلد کوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آجائے گا۔امریکی ٹی وی چینل نیوز نیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر رابطے ہو رہے ہیں، تاہم مذاکرات کے مستقبل کا فیصلہ جلد کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایران سے متعلق اہم پیش رفت امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد سامنے آئے گی، لیکن آنے والے دن اہم ہیں اور صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں امریکا اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے اور اسے فوجی و مالی دونوں محاذوں پر برتری حاصل ہے۔دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے منصوبے پر کام جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائل و ڈرون کے ذخائر ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں کی نومبر کے آغاز تک تیاری مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران نئے حملوں کے امکان پر بھی گفتگو کی۔ امریکا اور اسرائیل ممکنہ کارروائیوں کی تیاری کے لیے عراق کی فضائی حدود میں فوجی مشقیں بھی کر رہے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق نئے حملوں سے ایران کی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم ان کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے حوالے سے شکوک بھی موجود ہیں۔ اس سے قبل ایران پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال نئے حملوں کی حتمی منظوری نہیں دی، اس لیے فوجی کارروائی کا امکان موجود ہونے کے باوجود اسے حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔