تازہ ترین
پاکستان کی ترقی کیلئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، مصطفیٰ کمال بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، خواجہ آصف خیبر پختونخوا کو جلتا نہیں چھوڑ سکتے، گورنر راج مجبوری میں لگانا پڑا: وزیراعظم ہر سیاسی جماعت میں جاگیردار موجود ہیں، 42 سال سے سیاست کی نرسری بند ہے: حافظ نعیم؎ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیثِ نبوی ﷺ سنائی آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے امریکا کو ایرانی شرائط ماننا ہوں گی: عراقچی پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول ایل پی جی کی مصنوعی قلت کا خدشہ، اوگرا کو کارروائی کی ہدایت ایران کی نئی دھمکی، جنگ ہوئی تو انٹرنیٹ کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز بھی نشانے پر آسکتے ہیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ مریخ پر پراسرار سفید بادل کی تشکیل سے متعلق اہم انکشاف صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ٓ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا میں جائے گا پی ایچ پی کی سنگین خامیاں، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی بند
پاکستان خبر

صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ

صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ

 واشنگٹن( ویب ڈیسک) امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی رازداری سے متعلق گمراہ کن معلومات فراہم کرنے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت کا یہ فیصلہ فیس بک صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک ان کی اجازت کے بغیر رسائی حاصل کیے جانے کے الزامات سے متعلق مقدمے میں سامنے آیا۔ جج فرانسس میتھیو نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ کمپنی کی خلاف ورزیاں کئی برسوں پر محیط رہیں اور ان کے اثرات بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچے۔عدالت نے ریاستی قانون کے تحت 219 ارب ڈالر سے زائد جرمانے کو قابلِ جواز قرار دیا، تاہم حتمی طور پر جرمانے کی رقم کم کرکے 25 ارب ڈالر مقرر کردی۔ یہ حکم جیوری کی جانب سے میٹا کو صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیے جانے کے تین ہفتے سے زائد عرصے بعد جاری کیا گیا۔میٹا کے چیف قانونی افسر سی جے مہونی نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ وہ اپیل میں کامیابی حاصل کرے گی۔ ان کے مطابق اس فیصلے اور مقدمے کی کارروائی سے نیو میکسیکو میں کاروبار کرنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقدمے کا مقصد آن لائن اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے کمپنی پر مالی دباؤ ڈالنا ہے۔دوسری جانب نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریس نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کسی کمپنی کے خلاف امریکی تاریخ کے بڑے مالی جرمانوں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جواب دہ بنانے کا وقت آگیا ہے۔نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ کارروائی ان انکشافات کے بعد شروع کی گئی کہ برطانوی سیاسی مشاورتی کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا نے ایک تیسرے فریق کی ایپ کے ذریعے فیس بک کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا تھا۔ کیمبرج اینالیٹیکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم سے بھی وابستہ تھی، جبکہ حاصل کردہ ڈیٹا کو ووٹرز کی پروفائلنگ اور انہیں مخصوص انداز میں ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ریاستی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ میٹا نے صارفین کو یہ بتانے میں گمراہ کیا کہ ان کے ذاتی ڈیٹا تک کن افراد اور اداروں کو رسائی حاصل تھی۔ ریاست کا یہ بھی مؤقف تھا کہ کمپنی کو تیسرے فریق کے اداروں کی جانب سے ڈیٹا تک وسیع رسائی کا علم تھا اور پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو بھی برداشت کیا گیا۔ستمبر میں جیوری نے قرار دیا تھا کہ میٹا اور اس کی قیادت نے ڈیٹا کی رازداری، نفرت انگیز مواد اور دیگر معاملات پر 26 گمراہ کن بیانات دیے۔ جیوری کے مطابق ان بیانات کے ممکنہ سامعین کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے ریاست کے صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد خلاف ورزیاں کیں۔یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران ریاستی وکیل رینڈی میک گن نے عدالت سے 35 ارب سے 40 ارب ڈالر تک جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ میٹا نے جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 3 ارب 45 کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی استدعا کی۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ صارفین کا ڈیٹا فروخت نہیں کرتی اور ریاست یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کسی صارف کو حقیقتاً گمراہ کیا گیا۔واضح رہے کہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے سلسلے میں امریکی وفاقی تجارتی کمیشن نے 2019 میں بھی میٹا پر 5 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔میٹا کو اس کے علاوہ انسٹاگرام اور فیس بک کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات اور بچوں کے استحصال سے متعلق دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے۔