تازہ ترین
پاکستان کی ترقی کیلئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، مصطفیٰ کمال بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، خواجہ آصف خیبر پختونخوا کو جلتا نہیں چھوڑ سکتے، گورنر راج مجبوری میں لگانا پڑا: وزیراعظم ہر سیاسی جماعت میں جاگیردار موجود ہیں، 42 سال سے سیاست کی نرسری بند ہے: حافظ نعیم؎ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیثِ نبوی ﷺ سنائی آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے امریکا کو ایرانی شرائط ماننا ہوں گی: عراقچی پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول ایل پی جی کی مصنوعی قلت کا خدشہ، اوگرا کو کارروائی کی ہدایت ایران کی نئی دھمکی، جنگ ہوئی تو انٹرنیٹ کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز بھی نشانے پر آسکتے ہیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ مریخ پر پراسرار سفید بادل کی تشکیل سے متعلق اہم انکشاف صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ٓ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا میں جائے گا پی ایچ پی کی سنگین خامیاں، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی بند
پاکستان خبر

ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ

ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسٹیل سیکٹر میں پیداوار اور مصنوعات کی ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دیتے ہوئے متعلقہ مینوفیکچررز کو 30 دسمبر تک مانیٹرنگ سسٹم فعال کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت جاری حکم نامے کا اطلاق ان یونٹس پر ہوگا جو اسکریپ پگھلا کر بلٹس اور انگوٹس تیار کرتے ہیں، اسٹیل کی رولنگ یا ری رولنگ کرتے ہیں، یا پگھلانے سے لے کر رولنگ تک تمام مراحل ایک ہی مقام پر انجام دیتے ہیں۔نئے نظام کے تحت نگرانی کے چار مراحل مقرر کیے گئے ہیں، جن میں بلٹس اور انگوٹس کی گنتی سے لے کر تیار شدہ اسٹیل مصنوعات کی ترسیل تک تمام سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ اسٹیل کی پیداوار، مصنوعات کے سائز، تعداد اور وزن کا الیکٹرانک ریکارڈ مرتب کرنا لازم ہوگا، جبکہ تمام ویٹ برج بھی مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کیے جائیں گے۔ایف بی آر پیداواری وزن کے تخمینے اور مصنوعات کی ترسیل کے وقت ریکارڈ کیے گئے اصل خالص وزن کا تقابلی جائزہ بھی لے گا، تاکہ ریکارڈ میں موجود فرق کی نشاندہی کی جا سکے۔حکم نامے کے مطابق پیداوار اور ترسیل سے متعلق معلومات حقیقی وقت میں ایف بی آر کے مرکزی کنٹرول یونٹ کو بھیجی جائیں گی۔ مانیٹرنگ نظام میں صنعتی کیمرے، ویڈیو تجزیے کی ٹیکنالوجی، سینسرز اور ڈیٹا ریکارڈ کرنے والے آلات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کم از کم ایک ماہ کی ویڈیو ریکارڈنگ مقامی طور پر محفوظ رکھنا بھی ضروری ہوگا۔مانیٹرنگ کے آلات صرف ایف بی آر کے مجاز وینڈرز نصب کر سکیں گے، جو ان کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کے بھی ذمہ دار ہوں گے۔ نظام میں خرابی، آلات کو نقصان پہنچنے یا کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی صورت میں ایک گھنٹے کے اندر متعلقہ حکام کو اطلاع دینا لازم ہوگا۔ اسی طرح پیداواری لائن، ویٹ برج یا ترسیلی طریقہ کار میں کسی تبدیلی سے کم از کم 30 دن پہلے آگاہ کرنا ہوگا۔ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ منظور شدہ مانیٹرنگ نظام کے بغیر اسٹیل مصنوعات کاروباری احاطے سے باہر نہیں بھیجی جا سکیں گی۔ دستی ریکارڈ، نجی کیمروں یا الگ ویٹ برج اندراج کو لازمی الیکٹرانک نظام کا متبادل تسلیم نہیں کیا جائے گا۔بورڈ نے متعلقہ چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو حکم نامے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ مانیٹرنگ نظام نصب یا فعال نہ کرنے اور اس میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ایف بی آر کے مطابق یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔