تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا قوم سازی میں اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین امریکی سینیٹر کا ایران سے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور تبدیلی گالیوں سے نہیں، کام کرکے دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے: مریم نواز خواجہ آصف کے پی حکومت سے دہشت گردی پر 8 سوالات بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس سعودی تنصیبات پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا صحت اور فارما شعبے میں خود انحصاری، برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، 45 فیصد اضافہ پاکستان کی معاشی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف سے نکلنے کا موقع سرکاری قرضے 10 سال میں 340 فیصد بڑھ گئے، حجم 86.7 کھرب روپے ایران کی سخت وارننگ، حملے کیلئے سرزمین استعمال ہوئی تو جواب مختلف ہوگا اداکارہ نوال پرویز ملک رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں گلاسٹن بری 2027 کے تمام ٹکٹس 45 منٹ میں فروخت ہوگئے انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں دبئی میں صبا قمر اور راکھی ساونت کی اچانک ملاقات
پاکستان خبر

کفایت شعاری سے 16 ارب 80 کروڑ روپے بچت متوقع

کفایت شعاری سے 16 ارب 80 کروڑ روپے بچت متوقع

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی سے 3 ماہ کے دوران صرف 70 کروڑ روپے کی بچت ہوگی، جبکہ ایک سال کیلئے غیر تنخواہی اخراجات میں 5 فیصد کمی سے 16 ارب 10 کروڑ روپے بچائے جاسکیں گے۔ مجموعی کفایت شعاری اقدامات سے 16 ارب 80 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آئی ایم ایف پروگرام کے 2 سال مکمل ہونے پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر مجموعی عملدرآمد کافی مضبوط رہا، تاہم بعض شرائط پوری نہیں ہوسکیں۔امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ تین صوبے چینی کے شعبے کو آزاد کرنے پر متفق ہوگئے ہیں جبکہ ایک صوبے کے تحفظات دور کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق چینی کی منڈی آزاد کرنے کیلئے قومی پالیسی پر وفاقی کابینہ سے رواں سال جون تک منظوری ضروری تھی، تاہم حکومت مقررہ مدت میں پالیسی منظور نہ کرسکی۔انہوں نے بتایا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط پر بھی عملدرآمد سست ہے، جبکہ بعض صوبوں کی جانب سے مقررہ اخراجات نہ کیے جانے کے باعث صحت اور تعلیم کے اہداف بھی حاصل نہیں ہوسکے۔ مزید 9 سرکاری اداروں کے قوانین کو سرکاری ملکیتی اداروں کے قانون سے ہم آہنگ کرنے کی شرط بھی پوری نہیں ہوئی۔سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے وزیر قانون و انصاف اور قومی احتساب بیورو کو زیادہ بدعنوانی کے خطرے والے 10 سرکاری محکموں میں خطرات کم کرنے کیلئے عملی منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔قائمہ کمیٹی کی رکن حنا ربانی کھر نے سوال کیا کہ کیا حکومت کی کفایت شعاری مہم محض دکھاوے کیلئے ہے، تاہم سیکریٹری خزانہ نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ سید نوید قمر نے زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 سے بڑھا کر 45 فیصد کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔