ماسکو( مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ امریکا کو روسی ڈیزل کی پہلی کھیپ بھیجنے میں کم از کم دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ماسکو میں جاری رشین انرجی ویک فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الیگزینڈر نوواک نے بتایا کہ ڈیزل کی ترسیل سے پہلے معاہدہ طے کرنا، ایندھن کو جہاز پر لادنا، بحری جہاز کا انتظام کرنا اور اسے خریدار کی جانب روانہ کرنا ضروری ہے۔ ان تمام مراحل کی تکمیل میں دو سے تین ہفتے درکار ہوں گے، اس لیے معاہدہ جلد طے کرنا اہم ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس موقع پر صدر پوتن نے امریکا اور عالمی منڈیوں کو روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے ماسکو کی آمادگی کا اظہار کیا تھا۔الیگزینڈر نوواک کے مطابق روس ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندی مقررہ مدت سے پہلے ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اکتوبر میں 3 لاکھ ٹن، نومبر میں 5 لاکھ ٹن اور دسمبر میں 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرسکتا ہے۔روسی نائب وزیراعظم نے مزید بتایا کہ بعد کے مرحلے میں ڈیزل کی ماہانہ فراہمی بڑھا کر 30 لاکھ ٹن تک کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے روسی ڈیزل کو عالمی منڈی میں فراہم کرنے کی اجازت دینے کے لیے عمومی لائسنس بھی جاری کیا ہے، جس کی مدت 7 اپریل 2027 تک ہے۔رشین انرجی ویک فورم ماسکو میں 14 سے 16 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ یہ فورم روسی حکومت، وزارت توانائی اور ماسکو کی انتظامیہ کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔