تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا ہوا ہے: بیرسٹر گوہر

خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا ہوا ہے: بیرسٹر گوہر

لاہور(پاکستان خبر) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت باضابطہ اعلان کے بغیر گورنر راج جیسی صورتحال ہے، صوبے پر مکمل کنٹرول کیا گیا ہے اور منتخب ارکان موجود ہونے کے باوجود اختیار دوسروں کے پاس ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور آئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری بدترین سیاسی انتقام ہے، جبکہ عمران خان کے خاندان کے چار افراد اور 8 ارکان قومی اسمبلی گرفتار ہیں اور بعض وزرا بھی لاپتا ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی موجود ہیں، تاہم اختیار دوسروں کے پاس ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ایسا مارچ چاہتی ہے جو پرامن ہو۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے لانگ مارچ کے بارے میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ شرکا اداروں پر حملہ کریں گے، اس بیانیے کا تدارک ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کس سے بات کرنی ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہونے چاہئیں، تاہم بدقسمتی سے فی الحال بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالنا ہوگا۔ اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی قیادت مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش فی الحال صرف اعلان تک محدود ہے اور عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی، تاہم بعض عناصر سیاسی مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔