اسلام آباد( کامرس ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے صوبائی حکومتوں کے اخراجات کا ہدف 4.2 کھرب روپے سے کم کرکے تقریباً 3.9 کھرب روپے کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبوں کو درپیش مالی مشکلات کے باعث رواں مالی سال بھی مقررہ ہدف پورا ہونے کے امکانات کم ہیں۔ گزشتہ مالی سال چاروں صوبوں نے صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے مقررہ ہدف سے تقریباً 370 ارب روپے کم خرچ کیے تھے۔وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے گزشتہ ماہ پارلیمانی کمیٹی کو بتایا تھا کہ موجودہ پروگرام کے دوران صحت اور تعلیم کے اخراجات سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط مسلسل پوری نہیں ہورہی۔7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت صوبائی حکومتوں کو صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر 4.2 کھرب روپے سے زائد خرچ کرنا ہیں، تاہم رواں مالی سال کے صوبائی بجٹ میں ان شعبوں کے لیے مجموعی مختص رقم آئی ایم ایف کے ہدف سے تقریباً 500 ارب روپے کم ہے۔ذرائع کے مطابق ہدف کم کرکے 3.9 کھرب روپے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس صورت میں بھی صوبائی بجٹ میں مختص رقم اور نظرثانی شدہ ہدف کے درمیان تقریباً 200 ارب روپے کا فرق باقی رہے گا۔آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور اس وقت اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت جاری ہے۔اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی صورت میں پاکستان کو 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی مالی معاونت کی سہولت کے تحت 200 ملین ڈالر سے زائد ملنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ایک موقع پر آئی ایم ایف نے صحت و تعلیم کے اخراجات کی شرط مزید سخت کرکے اسے مقداری کارکردگی کا معیار بنانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ ایسی شرط پوری نہ ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے چھوٹ حاصل کرنا ضروری ہوتی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب نے آئی ایم ایف کو اپنے بجٹ پر شدید مالی دباؤ سے آگاہ کیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا نے وفاق کو نقد گرانٹ دینے کا وعدہ نہیں کیا، البتہ صحت و تعلیم کے اخراجات کے اہداف پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے نہ ہونے کے باعث وفاقی حکومت نے صوبوں سے اخراجات محدود کرنے کی درخواست کی، جس سے صحت اور تعلیم کے اخراجات کا ہدف بھی متاثر ہوا۔رواں مالی سال پنجاب نے 9.5 کھرب روپے کے مجموعی بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لیے تقریباً 3.1 کھرب روپے مختص کیے ہیں۔ سندھ نے دونوں شعبوں کے لیے تقریباً 1.1 کھرب، خیبر پختونخوا نے 800 ارب روپے سے زائد جبکہ بلوچستان نے 268 ارب روپے مختص کیے ہیں۔