بیجنگ( ویب ڈیسک) چینی سائنسدانوں نے ایسا جدید ایئر فلٹر تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی یا گھر کے اندر ایل ای ڈی روشنی سے خود چارج ہو کر ہوا میں موجود آلودہ ذرات اور جراثیم کو اپنی جانب متوجہ کرسکتا ہے۔جرنل ’’کیم‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ فلٹر چین کی جیلین یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے، جس میں پولی پروپلین کی باریک جھلی استعمال کی گئی ہے، یہی مواد تجارتی فیس ماسکس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔محققین نے جھلی کی سطح پر ایسا مواد لگایا ہے جو روشنی اور حرارت کے اثر سے برقی چارج پیدا کرتا ہے۔ یہ چارج ہوا میں موجود ذرات کو اپنی جانب کھینچتا ہے، جس کے نتیجے میں فلٹر کو بجلی کے کسی بیرونی کنکشن کے بغیر آلودہ ذرات اور جراثیم روکنے میں مدد ملتی ہے۔تحقیق کے مطابق اس عمل کو روزمرہ زندگی میں پیدا ہونے والی جامد بجلی کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، جہاں برقی چارج دھول کے ذرات کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔فضائی آلودگی کے عالمی مسئلے کے باعث ایئر پیوریفائرز اور ہوا صاف کرنے والی ٹیکنالوجی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دستیاب اندازوں کے مطابق 2026 میں عالمی ایئر پیوریفائر مارکیٹ کی مالیت تقریباً 14.5 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی سے ہر سال تقریباً 70 لاکھ قبل از وقت اموات منسلک ہیں۔ جنوبی ایشیا میں موسم سرما کی سموگ جبکہ یورپ، ایشیا اور امریکا کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی آگ سے اٹھنے والا دھواں فضائی معیار کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو این 95 ماسکس کے دوبارہ قابلِ استعمال ماڈلز میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر قابلِ عمل ثابت ہوتی ہے تو ایسے فلٹرز ہوا صاف کرنے کے لیے بیرونی بجلی کی ضرورت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔