اسلام آباد( کامرس ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستان میں آئندہ دنوں تیل کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر میں حوثی حملوں کے باعث متبادل ترسیلی راستے بھی متاثر ہیں۔حکام کے مطابق حکومت خلیجی ممالک کے علاوہ عمان، فجیرہ، لیبیا، امریکا، مغربی افریقا اور قازقستان سے خام تیل حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ بڑے خام تیل بردار جہازوں کے لیے پاکستانی بندرگاہوں میں مطلوبہ گہرائی نہ ہونے کے باعث عمان یا حب کے قریب جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پاکستان میں 20 دن سے زائد کا تیل ذخیرہ موجود ہے اور نومبر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق سعودی عرب سے تیل کی فراہمی فی الحال معطل ہے جبکہ ایک پاکستانی بحری جہاز کو ہنگامی طور پر تیار رکھا گیا ہے۔صنعتی ذرائع کے مطابق جنگی خطرات اور مال برداری کی بیمہ لاگت میں تین سے چار گنا اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ نومبر کے لیے تیل کے بحری جہاز بھی مہنگے داموں دستیاب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 68 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 57 روپے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے۔