نیویارک( ویب ڈیسک)ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسے سیارے کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر دم توڑتے ہوئے ستارے سے خارج ہونے والے مادے سے تشکیل پایا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا ممکنہ دوسری نسل کا سیارہ ہوسکتا ہے جو ایک سفید بونے، یعنی مردہ ستارے، کے گرد گردش کررہا ہے۔یونیورسٹی آف واروک کے پی ایچ ڈی طالب علم جیمی ولیمز کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق دوسری نسل کے سیارے ان مادّوں سے تشکیل پاتے ہیں جو کسی ستارے کی زندگی کے اختتام پر خلا میں خارج ہوتے ہیں۔جیمی ولیمز کے مطابق ایسے سیاروں کا وجود انتہائی نایاب جبکہ سفید بونے کے گرد ان کی موجودگی غیر متوقع تصور کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کچھ ایسی ہے جیسے کوئی سیارہ اس ستارے کی ’راکھ‘ سے دوبارہ جنم لے جس کے گرد وہ کبھی گردش کرتا تھا۔اس سے قبل ماہرینِ فلکیات نے پلسرز، یعنی انتہائی طاقتور مردہ ستاروں، کے گرد بھی ایسے ممکنہ دوبارہ جنم لینے والے سیاروں کے شواہد دریافت کیے تھے، تاہم سفید بونے کے گرد اس نوعیت کے سیارے کی موجودگی کا یہ پہلا ممکنہ مشاہدہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر مزید مشاہدات سے اس دریافت کی تصدیق ہوگئی تو کائنات میں دوسری نسل کے سیاروں کی ممکنہ تعداد سے متعلق موجودہ اندازوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔