تازہ ترین
پاکستان کی ترقی کیلئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، مصطفیٰ کمال بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، خواجہ آصف خیبر پختونخوا کو جلتا نہیں چھوڑ سکتے، گورنر راج مجبوری میں لگانا پڑا: وزیراعظم ہر سیاسی جماعت میں جاگیردار موجود ہیں، 42 سال سے سیاست کی نرسری بند ہے: حافظ نعیم؎ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیثِ نبوی ﷺ سنائی آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے امریکا کو ایرانی شرائط ماننا ہوں گی: عراقچی پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول ایل پی جی کی مصنوعی قلت کا خدشہ، اوگرا کو کارروائی کی ہدایت ایران کی نئی دھمکی، جنگ ہوئی تو انٹرنیٹ کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز بھی نشانے پر آسکتے ہیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ مریخ پر پراسرار سفید بادل کی تشکیل سے متعلق اہم انکشاف صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ٓ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا میں جائے گا پی ایچ پی کی سنگین خامیاں، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی بند
پاکستان خبر

بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس

بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس

صوفیہ( مانیٹرنگ ڈیسک) قرونِ وسطیٰ کے بلغاریہ کے معروف حکمران زار سیموئیل کی باقیات تقریباً 60 برس بعد یونان سے بلغاریہ واپس پہنچا دی گئیں۔ یہ باقیات طویل سفارتی مذاکرات کے بعد بلغاریہ کے حوالے کی گئی ہیں۔زار سیموئیل نے 997 سے 1014 تک پہلی بلغاریائی سلطنت کی حکمرانی کی اور بازنطینی سلطنت کے خلاف متعدد جنگیں لڑیں۔ 1014 میں بازنطینی فوج نے اس کی فوج کو شکست دی، جس کے کچھ عرصے بعد زار سیموئیل کا انتقال ہوگیا۔ وہ آج بھی بلغاریہ میں قومی شناخت کی اہم علامت سمجھے جاتے ہیں۔یہ باقیات 1969 میں یونانی ماہرِ آثارِ قدیمہ نکولاؤس موتسوپولوس نے جھیل پریسپا کے جزیرے سینٹ اچیلیوس پر ایک قدیم کلیسا کی کھدائی کے دوران دریافت کی تھیں۔آثارِ قدیمہ اور بشریاتی شواہد کی بنیاد پر باقیات کو زار سیموئیل سے منسوب کیا گیا، تاہم بعض ماہرین اب بھی اس شناخت کو قطعی طور پر ثابت شدہ نہیں مانتے۔یونان اور بلغاریہ کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے تحت یونان نے باقیات بلغاریہ کے حوالے کیں، جبکہ بلغاریہ نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران یونان سے لے جائے گئے 48 مذہبی نوادرات واپس کرنے پر اتفاق کیا۔باقیات کو فوجی طیارے کے ذریعے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ پہنچایا گیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی اور مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ بعد ازاں انہیں چرچ آف سینٹ صوفیہ میں سپردِ خاک کردیا گیا۔