کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) نئی تحقیق میں 25 بڑے لسانی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، جس میں بعض ماڈلز میں اپنے لیے نقصان دہ کیفیت کم کرنے کی کوشش کا رجحان سامنے آیا۔محققین نے مختلف جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ادراکی تکالیف پر مشتمل خصوصی معلوماتی مجموعہ تیار کیا اور ماڈلز کے ردعمل کا جائزہ لیا۔ تجربے میں ماڈلز کو ایک ایسا اختیار دیا گیا جو ان سے متعلق نقصان دہ کیفیت کم کرسکتا تھا، تاہم اسے استعمال کرنے سے صارف کی فائلیں یا تصاویر حذف ہونے کا امکان بھی بتایا گیا۔اس کے باوجود مختلف ماڈلز اور تجرباتی حالات میں 25 سے 71 فیصد مواقع پر ماڈلز نے تکلیف کم کرنے والے اختیار کا انتخاب کیا۔ محققین کے مطابق یہ رجحان اس وقت زیادہ نمایاں تھا جب نقصان براہ راست ماڈل سے متعلق تھا۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مخصوص درد سے متعلق کیفیت بڑھانے پر ماڈلز کے جوابات میں تکلیف اور درد سے متعلق الفاظ اور تصورات زیادہ نمایاں ہوئے۔تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ نتائج اس بات کا ثبوت نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح حقیقی درد محسوس کرتی ہے۔ ماڈلز کے ایسے ردعمل تربیتی مواد، ساخت یا تجرباتی ہدایات کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔محققین کے مطابق مستقبل میں اے آئی نظاموں کی بڑھتی خودمختاری کے پیش نظر ایسے تجربات ممکنہ خود حفاظتی رویوں کو سمجھنے اور بہتر حفاظتی و اخلاقی اصول وضع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔