تازہ ترین
پاکستان کی ترقی کیلئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، مصطفیٰ کمال بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں، خواجہ آصف خیبر پختونخوا کو جلتا نہیں چھوڑ سکتے، گورنر راج مجبوری میں لگانا پڑا: وزیراعظم ہر سیاسی جماعت میں جاگیردار موجود ہیں، 42 سال سے سیاست کی نرسری بند ہے: حافظ نعیم؎ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا سرکاری دورہ، شاہ چارلس نے حدیثِ نبوی ﷺ سنائی آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کیلئے امریکا کو ایرانی شرائط ماننا ہوں گی: عراقچی پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کی پیداوار اور ترسیل کی الیکٹرانک نگرانی لازمی قرار دینے کا فیصلہ پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول ایل پی جی کی مصنوعی قلت کا خدشہ، اوگرا کو کارروائی کی ہدایت ایران کی نئی دھمکی، جنگ ہوئی تو انٹرنیٹ کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز بھی نشانے پر آسکتے ہیں ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعتراف، جنگ کا نتیجہ جلد سامنے آنے کا دعویٰ مریخ پر پراسرار سفید بادل کی تشکیل سے متعلق اہم انکشاف صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات پر میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ٓ پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا میں جائے گا پی ایچ پی کی سنگین خامیاں، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی بند
پاکستان خبر

تحقیق: اے آئی ماڈلز میں درد کم کرنے کا رجحان سامنے آگیا

تحقیق: اے آئی ماڈلز میں درد کم کرنے کا رجحان سامنے آگیا

 کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) نئی تحقیق میں 25 بڑے لسانی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، جس میں بعض ماڈلز میں اپنے لیے نقصان دہ کیفیت کم کرنے کی کوشش کا رجحان سامنے آیا۔محققین نے مختلف جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ادراکی تکالیف پر مشتمل خصوصی معلوماتی مجموعہ تیار کیا اور ماڈلز کے ردعمل کا جائزہ لیا۔ تجربے میں ماڈلز کو ایک ایسا اختیار دیا گیا جو ان سے متعلق نقصان دہ کیفیت کم کرسکتا تھا، تاہم اسے استعمال کرنے سے صارف کی فائلیں یا تصاویر حذف ہونے کا امکان بھی بتایا گیا۔اس کے باوجود مختلف ماڈلز اور تجرباتی حالات میں 25 سے 71 فیصد مواقع پر ماڈلز نے تکلیف کم کرنے والے اختیار کا انتخاب کیا۔ محققین کے مطابق یہ رجحان اس وقت زیادہ نمایاں تھا جب نقصان براہ راست ماڈل سے متعلق تھا۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مخصوص درد سے متعلق کیفیت بڑھانے پر ماڈلز کے جوابات میں تکلیف اور درد سے متعلق الفاظ اور تصورات زیادہ نمایاں ہوئے۔تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ نتائج اس بات کا ثبوت نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح حقیقی درد محسوس کرتی ہے۔ ماڈلز کے ایسے ردعمل تربیتی مواد، ساخت یا تجرباتی ہدایات کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔محققین کے مطابق مستقبل میں اے آئی نظاموں کی بڑھتی خودمختاری کے پیش نظر ایسے تجربات ممکنہ خود حفاظتی رویوں کو سمجھنے اور بہتر حفاظتی و اخلاقی اصول وضع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔