تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں، محمد اورنگزیب

امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں، محمد اورنگزیب

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متعدد امریکی کمپنیاں ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو آگے بڑھانا نجی شعبے کا کام ہے۔ ان کے مطابق پائیدار معاشی استحکام کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور نجکاری کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ مارچ 2024ء میں جب وہ کراچی آئے تھے تو اسٹاک مارکیٹ کا اشاریہ 67 ہزار کی سطح پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنا گھر‘‘ اسکیم کے تحت اب تک 60 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ بینکوں کی جانب سے 340 ارب روپے کے قرضے منظور کیے گئے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ مارکیٹ کی ترقی سے متعلق کونسل اپنی سفارشات مرتب کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ سرمایہ کہاں ہے، تاہم سرمایہ کاری کے عمل کو مکمل ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے۔وزیر خزانہ نے معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ ہونے کی خبر تو نمایاں ہوجاتی ہے، لیکن مقررہ ہدف سے زیادہ ٹیکس جمع ہونے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے لیے ’’نئی معیشت 2.0‘‘ متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے اور بانڈ مارکیٹ تک عام سرمایہ کاروں کی رسائی بڑھانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔