کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) امریکا میں قائم مصنوعی ذہانت کے ایک اسٹارٹ اپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اے آئی کمپنی اینتھروپک کے سسٹمز میں نقب لگا کر اندرونی پیغامات اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کرلی۔اسٹارٹ اپ کیتھیڈرل کے مطابق اس نے بگ باؤنٹی پروگرام کے تحت اینتھروپک کے اندرونی نیٹ ورک میں سیکیورٹی خامی تلاش کی۔ اس پروگرام کا مقصد بیرونی ماہرین کو سسٹمز کی خامیاں دریافت کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ کیتھیڈرل کی بنیاد رواں سال امریکی محکمہ حکومتی کارکردگی کے سابق ملازمین نے رکھی تھی۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سیکیورٹی خلاف ورزی کے دوران سلیک پیغامات، اجلاسوں کی تحریری روداد، ملازمین کی تنخواہوں اور ملازمت کی پیشکشوں سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کی گئی۔اینتھروپک نے تصدیق کی کہ کیتھیڈرل نے اس کے سیلز، ہیومن ریسورسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظاموں کے محدود حصے تک رسائی حاصل کی تھی۔ تاہم کمپنی کے مطابق صارفین کی کلاؤڈ کے ساتھ گفتگو تک رسائی نہیں ہوئی اور اے آئی ماڈل کا سورس کوڈ محفوظ رہا۔کمپنی نے بیان میں کہا کہ اس کے نگرانی کے نظام نے کیتھیڈرل کی بعض سرگرمیوں کی نشاندہی اس واقعے کی اطلاع ملنے سے پہلے ہی کرلی تھی، جبکہ اسی روز اسٹارٹ اپ کی رسائی بھی بند کردی گئی۔