تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے

مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے

نیویارک (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت نے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا کر طبی دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ مائیکروسافٹ کے ماہرین نے MAI-DxO نامی نیا اے آئی تشخیصی نظام تیار کیا ہے، جو کم ٹیسٹ اور کم اخراجات میں بیماریوں کی شناخت میں مدد فراہم کرتا ہے۔مائیکروسافٹ کی رپورٹ کے مطابق اس نظام کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں، بلکہ پیچیدہ طبی کیسز کو مرحلہ وار سمجھنے اور درست تشخیص تک پہنچنے میں ان کی معاونت کرنا ہے۔تحقیق میں امریکا کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں عام طور پر سامنے آنے والے طبی کیسز پر نظام کو آزمایا گیا، جہاں اس نے ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریباً 1.7 گنا زیادہ درست تشخیص کی۔ بعض کیسز میں اس نے انسانی معالجین کے مقابلے میں نصف یا ایک تہائی اخراجات کے ساتھ تشخیص کی اور نسبتاً کم ٹیسٹ استعمال کیے۔امریکی جریدے ’سائنس‘ کی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں اے آئی نظام کی تشخیصی کامیابی کی شرح 83.2 فیصد رہی، جبکہ انسانی ڈاکٹروں کی کامیابی کی شرح 36.1 فیصد تھی۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے کیسز پر ایک اور تجربے میں اے آئی نے 80.3 فیصد جبکہ انسانی معالجین نے 46.8 فیصد کامیابی حاصل کی۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں کی علامات، طبی تاریخ اور ٹیسٹوں کی معلومات کا تجزیہ کرنے، ممکنہ بیماریوں کا موازنہ کرنے اور غیر ضروری طبی ٹیسٹوں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔