نیویارک (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت نے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا کر طبی دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ مائیکروسافٹ کے ماہرین نے MAI-DxO نامی نیا اے آئی تشخیصی نظام تیار کیا ہے، جو کم ٹیسٹ اور کم اخراجات میں بیماریوں کی شناخت میں مدد فراہم کرتا ہے۔مائیکروسافٹ کی رپورٹ کے مطابق اس نظام کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں، بلکہ پیچیدہ طبی کیسز کو مرحلہ وار سمجھنے اور درست تشخیص تک پہنچنے میں ان کی معاونت کرنا ہے۔تحقیق میں امریکا کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں عام طور پر سامنے آنے والے طبی کیسز پر نظام کو آزمایا گیا، جہاں اس نے ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریباً 1.7 گنا زیادہ درست تشخیص کی۔ بعض کیسز میں اس نے انسانی معالجین کے مقابلے میں نصف یا ایک تہائی اخراجات کے ساتھ تشخیص کی اور نسبتاً کم ٹیسٹ استعمال کیے۔امریکی جریدے ’سائنس‘ کی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں اے آئی نظام کی تشخیصی کامیابی کی شرح 83.2 فیصد رہی، جبکہ انسانی ڈاکٹروں کی کامیابی کی شرح 36.1 فیصد تھی۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے کیسز پر ایک اور تجربے میں اے آئی نے 80.3 فیصد جبکہ انسانی معالجین نے 46.8 فیصد کامیابی حاصل کی۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں کی علامات، طبی تاریخ اور ٹیسٹوں کی معلومات کا تجزیہ کرنے، ممکنہ بیماریوں کا موازنہ کرنے اور غیر ضروری طبی ٹیسٹوں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی