اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد 20 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اب یومیہ 30 لاکھ روپے سے زائد نقد لین دین کی رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو دینا لازم ہوگا۔ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مالیاتی نگرانی کے نظام میں مزید تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو بھی اختیارات دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم یہ اختیارات متعلقہ طریقہ کار (ایس او پیز) کی تکمیل سے مشروط ہوں گے۔حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات کو بھی انسدادِ منی لانڈرنگ کے نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت اختیارات دے دیے گئے ہیں، جس کا مقصد مالیاتی لین دین کی نگرانی بہتر بنانا اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے اقدامات کو مؤثر کرنا ہے۔