تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ

قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی ہیں، جبکہ رواں مالی سال اس مد میں 80 کھرب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔رپورٹ کے مطابق قرضوں کی بڑھتی ادائیگیوں کا بوجھ ملکی مالیاتی نظام کیلئے سنگین خطرہ بن رہا ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ہر سال ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن کا بڑا حصہ استعمال کر لیتی ہیں۔قرضوں پر سود کی ادائیگیاں مالی سال 2030-31 میں 100 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے باقی رہنے کا تخمینہ ہے۔پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا حجم درمیانی مدت میں بھی بلند رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث قومی وسائل کا بڑا حصہ اس مد میں خرچ ہوتا رہے گا۔ سودی ادائیگیوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ ہے۔