تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات

اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات

ٹوکیو( ویب ڈیسک)سائبر سکیورٹی ماہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی ڈسکور ٹیک مبینہ طور پر ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے صارفین کو ڈیجیٹل اشتہارات کے ذریعے نشانہ بنا کر ان کے مقامات اور آن لائن سرگرمیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔ٹوکیو میں قائم سائبر سکیورٹی کمپنی کے محققین کے مطابق ڈسکور ٹیک 100 سے زائد ممالک میں اسٹار لنک صارفین کو دکھائے جانے والے اشتہارات کے لیے زیادہ بولی لگانے والی کمپنیوں میں شامل تھی۔ ان ممالک میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جہاں اسٹار لنک پر پابندی یا سخت پابندیاں عائد ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل اشتہارات کے بولی کے نظام سے صارفین کے انٹرنیٹ ڈیٹا تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔ اس معلومات کو دیگر دستیاب ڈیٹا کے ساتھ ملا کر صارفین کی شناخت، مقام اور آن لائن سرگرمیوں کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔تحقیقات سامنے آنے کے بعد گوگل، کامکاسٹ اور دیگر کمپنیوں نے ڈسکور ٹیک کو اپنے اشتہاری پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب بعض امریکی اور بین الاقوامی اداروں نے بھی اپنے ملازمین کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے خدشے پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔