تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار

یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار

اسلام آباد( پاکستان خبر) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا ایک اہم اور مضبوط تجارتی شراکت دار ہے۔اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کروشیا کے وزیر خارجہ کی مشترکہ صدارت میں ایک اجلاس ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کروشین وزیر خارجہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیا۔اس موقع پر کروشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا یہ ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جس پر انہوں نے دعوت دینے پر نائب وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے لیے اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور کروشیا کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔کروشین وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔