تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات

پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)لیتھیم کی عالمی طلب میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں معدنی ذخائر کی تلاش، لیتھیم آئن بیٹریوں کی تیاری اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔پاکستان عالمی معدنی سپلائی چین میں اپنا کردار بڑھانے کے لیے 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم منعقد کررہا ہے، جس میں عالمی سرمایہ کاروں اور کان کنی کے ماہرین کی شرکت متوقع ہے۔لیتھیم کے ممکنہ وسائل کی تلاش کے سلسلے میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنِس ٹیک) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس کے تحت منتخب کنوؤں سے زیرِزمین پانی کے 2,000 سے زائد نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا، تاکہ لیتھیم اور نایاب ارضی عناصر کی موجودگی اور مقدار کا تعین کیا جاسکے۔ابتدائی پائلٹ مطالعے میں سندھ کے واحد بخش-01 کنویں کے پانی میں لیتھیم کی مقدار 291 ملی گرام فی لیٹر رپورٹ ہوئی ہے، تاہم اس نتیجے سے ملک میں قابلِ استخراج لیتھیم کے تجارتی ذخائر کی مقدار یا معاشی افادیت کی حتمی تصدیق نہیں ہوتی۔دوسری جانب لیتھیم آئن بیٹریوں کی بڑھتی درآمدات نے مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کے امکانات کو نمایاں کیا ہے۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 سے مئی 2026 کے دوران پاکستان نے تقریباً 5.39 گیگاواٹ گھنٹے گنجائش کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 256.94 ملین ڈالر رہی۔یہ طلب شمسی توانائی کے ذخیرے، گھریلو بیک اَپ، صنعتی ضروریات اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بیٹریوں کی مقامی تیاری اور اسمبلنگ کے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔بیٹری سازی کے شعبے میں بڑے منصوبوں پر بھی کام جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ راولپنڈی میں 2.25 ارب ڈالر کی مجوزہ لیتھیم آئن بیٹری فیکٹری کے لیے چینی شراکت داروں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ کام کیا جارہا ہے، جبکہ کراچی کے کورنگی صنعتی علاقے میں بھی لیتھیم بیٹریوں کی تیاری کے لیے پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل اور پیداواری صلاحیت کا انحصار متعلقہ منظوریوں اور سرمایہ کاری پر ہوگا۔ماہرین کے مطابق پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم لیتھیم کی تلاش، معدنی وسائل کی سائنسی جانچ، بیٹری سازی، ری سائیکلنگ اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کا اہم موقع بن سکتا ہے۔ مقامی بیٹری سازی سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔تاہم، پاکستان میں لیتھیم کے تجارتی ذخائر کی تصدیق اور ان کے استخراج کی معاشی افادیت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔