تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ہلمند میں 13 سالہ لڑکی کی مردانہ لباس میں ملازمت کرنے پر گر فتار

ہلمند میں 13 سالہ لڑکی کی مردانہ لباس میں ملازمت کرنے پر گر فتار

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا، جو مردانہ لباس پہن کر کام کر رہی تھی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ نوریہ گزشتہ تین برس سے "نور احمد" کے نام سے ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی اور شدید غربت کے باعث مردانہ لباس پہن کر کام کرنے پر مجبور ہوئی۔ نوریہ کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی، لیکن آخرکار راز فاش ہو گیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کرنے پر قدغن کے باعث ہزاروں خواتین روزگار سے محروم ہو چکی ہیں۔نوریہ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے اور ایک بار پھر افغان خواتین کو درپیش مشکلات اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔