تازہ ترین
فیک نیوز اور غلط معلومات عصرِ حاضر کا بڑا چیلنج ہیں، عطاء تارڑ بروقت فیصلہ نہ کرتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم غیرملکی فوجی اڈے تحفظ نہیں دے سکتے، پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، خواجہ آصف ایران امریکا ثالثی میں پاکستان محتاط انداز میں پرامید ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر ریپبلکنز کو انتخابی نقصان ہوا تو ٹرمپ ایران پر حملہ کرسکتے ہیں، امریکی عہدیدار مجتبیٰ خامنہ ای کا عسکری کمانڈرز کو دشمن کے ہر خطرے کا فوری جواب دینے کا حکم ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو خسارہ اہم نہیں، عباس عراقچی امریکا ایران جنگ میں نئی شدت زیادہ تباہ کن ہوسکتی ہے، مصر کی وارننگ پاکستان کی سعودی کمپنیوں کو ٹیکس فری تیل ذخیرہ کرنے کی پیشکش 39,704 کمپنیاں غیر فعال قرار، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ پاکستان میں غربت 29 فیصد تک پہنچ گئی، معاشی عدم مساوات میں اضافہ سونا فی تولہ 10,800 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 10 ہزار سے نیچے آگئی راس الخیمہ میں خودکار گاڑیوں کی آزمائش کا مرکز قائم ریڈ جائنٹ ستاروں کی تباہی سے بچنے والے 3 سیارے دریافت اے آئی اور روبوٹس کے دور میں بچت بے مقصد ہو جائے گی، ایلون مسک مارگریٹ کوالی اور جیک اینٹونوف کی 3 سالہ شادی ختم، طلاق کی درخواست دائر
پاکستان خبر

39,704 کمپنیاں غیر فعال قرار، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ

39,704 کمپنیاں غیر فعال قرار، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے 4 سال سے سالانہ گوشوارے اور مالیاتی حسابات جمع نہ کرانے پر 39,704 کمپنیوں کو غیر فعال قرار دے دیا، جس کے بعد ان کی مالیاتی خدمات تک رسائی محدود کردی گئی ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق غیر فعال کمپنیوں کے نئے بینک اکاؤنٹس نہیں کھل سکیں گے، جبکہ موجودہ اکاؤنٹس بھی واجب الادا فائلنگ مکمل ہونے تک منجمد رہیں گے۔ یہ کمپنیاں اس دوران مالیاتی خدمات حاصل نہیں کرسکیں گی اور ان کے ڈائریکٹرز کی تبدیلی بھی رجسٹر نہیں ہوسکے گی۔غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں میں لاہور کی 13,927، اسلام آباد کی 13,859، کراچی کی 4,868، پشاور کی 2,031 اور ملتان کی 1,861 کمپنیاں شامل ہیں۔اسی طرح فیصل آباد کی 1,384، گلگت کی 1,102، کوئٹہ کی 436 اور سکھر کی 236 کمپنیوں کو بھی غیر فعال قرار دیا گیا ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ رجسٹر کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا اور غیر فعال کمپنیوں کے غلط استعمال کی روک تھام ہے۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ شفاف اور قابلِ اعتماد کارپوریٹ رجسٹر کاروباری اعتماد کی بنیاد ہے، جبکہ غیر فعال کمپنیوں کو الگ کرنا مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ ان کے مطابق کمپنیاں قانونی تقاضے پورے کرکے دوبارہ فعال حیثیت حاصل کرسکتی ہیں۔