تازہ ترین
فیک نیوز اور غلط معلومات عصرِ حاضر کا بڑا چیلنج ہیں، عطاء تارڑ بروقت فیصلہ نہ کرتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم غیرملکی فوجی اڈے تحفظ نہیں دے سکتے، پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، خواجہ آصف ایران امریکا ثالثی میں پاکستان محتاط انداز میں پرامید ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر ریپبلکنز کو انتخابی نقصان ہوا تو ٹرمپ ایران پر حملہ کرسکتے ہیں، امریکی عہدیدار مجتبیٰ خامنہ ای کا عسکری کمانڈرز کو دشمن کے ہر خطرے کا فوری جواب دینے کا حکم ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو خسارہ اہم نہیں، عباس عراقچی امریکا ایران جنگ میں نئی شدت زیادہ تباہ کن ہوسکتی ہے، مصر کی وارننگ پاکستان کی سعودی کمپنیوں کو ٹیکس فری تیل ذخیرہ کرنے کی پیشکش 39,704 کمپنیاں غیر فعال قرار، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ پاکستان میں غربت 29 فیصد تک پہنچ گئی، معاشی عدم مساوات میں اضافہ سونا فی تولہ 10,800 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 10 ہزار سے نیچے آگئی راس الخیمہ میں خودکار گاڑیوں کی آزمائش کا مرکز قائم ریڈ جائنٹ ستاروں کی تباہی سے بچنے والے 3 سیارے دریافت اے آئی اور روبوٹس کے دور میں بچت بے مقصد ہو جائے گی، ایلون مسک مارگریٹ کوالی اور جیک اینٹونوف کی 3 سالہ شادی ختم، طلاق کی درخواست دائر
پاکستان خبر

بروقت فیصلہ نہ کرتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

بروقت فیصلہ نہ کرتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

اسلام آباد (پاکستان خبر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 13 سال سے برسراقتدار جماعت نے بلند و بانگ دعوے کیے، تاہم اس عرصے میں کتنی جامعات اور اسپتال تعمیر کیے گئے؟ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔وزیراعظم کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال میں ملک کو لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کا سامنا رہا۔ 2014ء کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015ء میں صدر شی جن پنگ کے دورے کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک بات چیت کی، جس کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا، لیکن منظوری نہ مل سکی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ 2019ء اور 2020ء میں افغانستان سے دہشتگردوں کو واپس لاکر بسایا گیا، جس کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف ماضی کی طرح مشترکہ جدوجہد کی دعوت دینے کا ذکر بھی کیا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر کام کیا۔ عالمی حالات اور خلیجی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی، جس سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں۔ان کے مطابق عوامی ریلیف کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور غریب طبقے کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے بھی تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔