تازہ ترین
فیک نیوز اور غلط معلومات عصرِ حاضر کا بڑا چیلنج ہیں، عطاء تارڑ بروقت فیصلہ نہ کرتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم غیرملکی فوجی اڈے تحفظ نہیں دے سکتے، پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، خواجہ آصف ایران امریکا ثالثی میں پاکستان محتاط انداز میں پرامید ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر ریپبلکنز کو انتخابی نقصان ہوا تو ٹرمپ ایران پر حملہ کرسکتے ہیں، امریکی عہدیدار مجتبیٰ خامنہ ای کا عسکری کمانڈرز کو دشمن کے ہر خطرے کا فوری جواب دینے کا حکم ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو خسارہ اہم نہیں، عباس عراقچی امریکا ایران جنگ میں نئی شدت زیادہ تباہ کن ہوسکتی ہے، مصر کی وارننگ پاکستان کی سعودی کمپنیوں کو ٹیکس فری تیل ذخیرہ کرنے کی پیشکش 39,704 کمپنیاں غیر فعال قرار، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ پاکستان میں غربت 29 فیصد تک پہنچ گئی، معاشی عدم مساوات میں اضافہ سونا فی تولہ 10,800 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 10 ہزار سے نیچے آگئی راس الخیمہ میں خودکار گاڑیوں کی آزمائش کا مرکز قائم ریڈ جائنٹ ستاروں کی تباہی سے بچنے والے 3 سیارے دریافت اے آئی اور روبوٹس کے دور میں بچت بے مقصد ہو جائے گی، ایلون مسک مارگریٹ کوالی اور جیک اینٹونوف کی 3 سالہ شادی ختم، طلاق کی درخواست دائر
پاکستان خبر

ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو خسارہ اہم نہیں، عباس عراقچی

ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو خسارہ اہم نہیں، عباس عراقچی

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کو نقصان پہنچانے والوں کو بڑا دھچکا دیا جائے گا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کی تو فریڈرک مرز نے اس کی حمایت کی، جرمن چانسلر منافقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی خسارہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جبکہ ریڈ لائنز کا دور اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملوں سے متعلق قیاس آرائیوں کے دوران تنازع کے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور تمام فریقوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جرمنی معاشی طور پر جنگ کے جلد خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی یورپ کو 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی ہیں۔ادھر جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فل نے کہا ہے کہ جی 20 کے بیشتر ممالک ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے حوثیوں سے حملے بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور روس پر زور دیا کہ وہ بحیرہ اسود میں حملوں کے ذریعے عالمی غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہے۔