تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کو نقصان پہنچانے والوں کو بڑا دھچکا دیا جائے گا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کی تو فریڈرک مرز نے اس کی حمایت کی، جرمن چانسلر منافقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو کا معاشی خسارہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جبکہ ریڈ لائنز کا دور اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملوں سے متعلق قیاس آرائیوں کے دوران تنازع کے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور تمام فریقوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جرمنی معاشی طور پر جنگ کے جلد خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی یورپ کو 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی ہیں۔ادھر جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فل نے کہا ہے کہ جی 20 کے بیشتر ممالک ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے حوثیوں سے حملے بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور روس پر زور دیا کہ وہ بحیرہ اسود میں حملوں کے ذریعے عالمی غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہے۔
ایرانی نقصان کے مقابلے میں یورپ کا 100 ارب یورو خسارہ اہم نہیں، عباس عراقچی
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں