ارومچی (کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال دو روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے، جہاں وہ ڈیجیٹل معیشت فورم میں شرکت کریں گے۔احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ڈیجیٹل معیشت تعاون سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت پیداوار، تجارت، طرز حکمرانی اور انسانی ترقی کو تیز کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ای پاکستان، اڑان پاکستان کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل ہے، جبکہ ڈیجیٹل تبدیلی ملک کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور قومی مصنوعی ذہانت پالیسی اس تبدیلی کی بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت، بادلاتی کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، تحقیق اور فنی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ڈیجیٹل رابطہ کاری اور کمپیوٹنگ راہداری کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے سرحد پار فائبر رابطوں، ڈیٹا مراکز اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے رابطوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تعاون میں اعتماد، رازداری، سائبر سکیورٹی، شفافیت اور قومی خودمختاری کے اصولوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی ڈیجیٹل شراکت داری کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کیلئے پُرعزم ہے اور رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے فوائد صرف حکومتوں اور بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ نوجوانوں، خواتین، جامعات اور چھوٹے کاروباروں کو بھی اس سے مواقع ملنے چاہئیں۔