اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورتحال تسلی بخش ہے، تاہم گیس اور ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔دنیا نیوز کے مطابق لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ نہ پیٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے قطاریں لگیں اور نہ ہی توانائی کے بحران کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ ماضی میں یہ ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے، جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں سال اپریل میں پرائیویٹ پلیسمنٹ کی، پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کی اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ارب یورو کے بانڈز جاری کیے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی یورو بانڈز کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ بانڈز کے حجم سے دوگنا تھے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستانی بانڈز میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سرمایہ کار اب آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کی معاشی صورتحال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ موجودہ پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہونا ہے۔توانائی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان نے توانائی کی خریداری اور فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ نومبر تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں، جبکہ موسم سرما کے لیے بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مالی ریلیف مستحق افراد تک پہنچایا جا سکے۔ موٹرسائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جس سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ منفرد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ مجموعی طور پر ملک کے تقریباً چار سے پانچ کروڑ افراد اس ریلیف سے مستفید ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے ساتھ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد بھی جاری ہے اور اصلاحات اب محض منصوبہ بندی تک محدود نہیں بلکہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
وزیر خزانہ کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، توانائی کی فراہمی پر بھی اظہارِ خیال
واپس خبروں پر
Category:
کامرس