اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) آسان کاروبار اصلاحاتی پروگرام کے تحت پاکستان میں کاروباری ضوابط کو آسان بنانے، تعمیلی اخراجات کم کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہے۔اے پی پی کے مطابق، اس سلسلے میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین آزاد، صوبائی کابینہ کے ارکان، نیشنل کوآرڈینیٹر اور ایس آئی ایف سی کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کاروباری سہولیات سے متعلق اصلاحات کو علاقائی سطح تک وسعت دینے اور وفاقی و علاقائی اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ اب تک 557 ضابطہ جاتی اصلاحات کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کے نتیجے میں کاروباری شعبے کو سالانہ 460 ارب روپے کی ممکنہ بچت متوقع ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد کاروباری تقاضوں کو آسان بنانا، ضابطوں پر عمل درآمد کے اخراجات کم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بننے والے پیچیدہ طریقہ کار کو ختم کرنا ہے۔وزیراعظم کی ہدایات کے تحت ایس آئی ایف سی ضابطہ جاتی سادگی کو فروغ دینے اور ایسا کاروباری ماحول تشکیل دینے میں معاونت کر رہی ہے جو کاروبار کے آغاز و توسیع، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سازگار ہو۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ علاقائی اداروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے سے اصلاحات کو مؤثر انداز میں وسعت دینے اور ان کے فوائد زیادہ سے زیادہ کاروباری حلقوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ایس آئی ایف سی اپنے مربوط حکومتی نظام کے ذریعے ضابطہ جاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری کو یکجا کرتے ہوئے ملک بھر میں سادہ، مؤثر اور کاروبار دوست نظام کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تحت کاروباری ضوابط میں اصلاحات، نجی شعبے کو سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع
واپس خبروں پر
Category:
کامرس