کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) معروف مصور ونسنٹ وین گوو کی 1889 میں تخلیق کردہ شہرہ آفاق پینٹنگ ’دی اسٹاری نائٹ‘ کے بارے میں سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ اس میں فرانس کے علاقے سینٹ ریمی کے آسمان پر 22 جولائی 1889 کے آس پاس طلوعِ آفتاب سے پہلے کا منظر دکھایا گیا ہے۔محققین نے مختلف سائنسی طریقوں کی مدد سے پینٹنگ میں موجود آسمانی منظر کا تجزیہ کیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ مصور نے حقیقت میں آسمان کے کس منظر کو کینوس پر منتقل کیا تھا۔ماہرینِ فلکیات کئی دہائیوں سے اس پینٹنگ میں دکھائے گئے ستاروں اور آسمانی اشکال کی تشریح کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ 1980 کی دہائی کے وسط میں اس موضوع پر دو اہم تحقیقی مطالعات بھی سامنے آئے تھے، تاہم ان کے نتائج ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ بعد ازاں پینٹنگ کے آسمانی منظر کی سائنسی تشریح کے بجائے اس کے علامتی مفہوم پر زیادہ توجہ دی جانے لگی۔نئی تحقیق کے مرکزی مصنف کے مطابق، اس مطالعے کا خیال انہیں پینٹنگ دیکھنے کے بعد آیا، کیونکہ انہیں اس میں دکھائے گئے آسمان سے متعلق پہلے سے موجود تشریحات غیر تسلی بخش محسوس ہوئیں۔جنوبی کوریا کی کیونگ ہی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ایلیاہ جیونگ ہیون کم نے کہا کہ مشاہداتی ماہرِ فلکیات کی حیثیت سے پینٹنگ کو دیکھنے پر انہیں اس میں ستاروں کا جھرمٹ برجِ ثور میں موجود ہایڈیز دکھائی دیا۔ تاہم جب انہوں نے سابقہ تحقیقات میں اسے برجِ حمل قرار دیے جانے کے بارے میں پڑھا تو انہیں محسوس ہوا جیسے یہ پینٹنگ انہیں اپنی طرف متوجہ کررہی ہو۔محققین نے پینٹنگ کی تخلیق کے مقام کا سراغ لگانے کے بعد اس میں موجود مختلف اشکال کا تجزیہ کیا۔ اس عمل کے ذریعے انہوں نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ پینٹنگ میں نمایاں پانچ مرکزی ستارے اس رات آسمان پر موجود ستاروں سے مطابقت رکھتے تھے یا نہیں۔تحقیق کے مطابق، وین گوو نے اس مشہور پینٹنگ کے بعد جو قلمی خاکہ تیار کیا تھا، اس میں دکھایا گیا آسمانی منظر متعلقہ رات کے حقیقی آسمان سے مزید قریب مطابقت رکھتا ہے۔
وین گوو کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’دی اسٹاری نائٹ‘ سے متعلق سائنس دانوں کا حیران کن انکشاف
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی