تازہ ترین
ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی کنٹرول یقینی بنایا جائے، شرمیلا فاروقی کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کے ہاں دوسرے بچے کی خوشخبری حریم فاروق یونیورسٹی میں لباس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کا شکار سعود قاسمی کا نادیہ خان پر شوبز میں تنازعات بڑھانے کا الزام شاہ ویر جعفری کی پہلی ٹی وی پرفارمنس، مداحوں کے دلچسپ تبصرے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کی خبر مسترد کردی ورلڈکپ 2027، پاک بھارت میچ کیلئے ایک لاکھ 10 ہزار ٹکٹ درخواستیں گرلز ہاکی کی تربیت کیلئے دو غیرملکی کوچز پاکستان پہنچ گئے حسن نواز کی ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں 62 درجے شاندار ترقی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری تسلیم کر رہے ہیں: وزیر خزانہ پنشن بچت کنندگان کیلئے کم لاگت سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ متعارف پاکستان جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کی مین لائن ون منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت زیلنسکی کا روس کی یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کا دعویٰ ایران کیخلاف جنگ، 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ سعودی کابینہ کا یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان خبر

آسٹریلیا میں اے آئی ایجنٹ کی سائبر مداخلت

آسٹریلیا میں اے آئی ایجنٹ کی سائبر مداخلت

 سڈنی ( ویب ڈیسک) آسٹریلیا میں ایک مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے حکومت کے طبی شماریاتی پورٹل کے ایسے بنیادی ڈھانچے تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی جس تک اسے رسائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقات کیلئے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرتے ہوئے ملک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین اور سائبر سکیورٹی نظام کا فوری جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم انتھونی البانیز نے نیویارک میں بتایا کہ یہ واقعہ 18 جون کو پیش آیا، جب اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ نے سروسز آسٹریلیا کے زیر انتظام میڈی کیئر شماریاتی رپورٹنگ سروس تک رسائی حاصل کی۔ حکومت کے مطابق مذکورہ ویب سائٹ پر میڈی کیئر اور فارماسیوٹیکل بینیفٹس اسکیم سے متعلق مجموعی اعداد و شمار موجود تھے، مریضوں کے انفرادی ریکارڈ، دعوے یا ادائیگیوں کا نظام اس میں شامل نہیں تھا۔حکومت کے مطابق اوپن اے آئی ایک داخلی صلاحیتی جائزے کے دوران عوامی ادویات کے اخراجات سے متعلق انٹرنیٹ پر تحقیق کررہا تھا، اسی دوران اے آئی ایجنٹ نے ویب سائٹ کے حفاظتی انتظامات عبور کرکے غیر مجاز بنیادی ڈھانچے تک رسائی حاصل کی۔اوپن اے آئی کو اگست میں ماڈل کے غیر متوقع رویے کا جائزہ لیتے ہوئے واقعے کا علم ہوا، جس پر کمپنی نے 10 ستمبر کو سروسز آسٹریلیا کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا۔ 15 ستمبر کو معاملہ آسٹریلین سگنلز ڈائریکٹوریٹ کے سائبر سکیورٹی سینٹر کو رپورٹ کیا گیا، جبکہ 17 ستمبر کو وزیر برائے عوامی خدمت کیٹی گالاگر کو بھی آگاہ کردیا گیا۔ 19 اور 20 ستمبر کو وزیراعظم کے دفتر سمیت متعلقہ حکام کو مزید معلومات فراہم کی گئیں اور 22 ستمبر کو اوپن اے آئی اور سروسز آسٹریلیا کے درمیان پہلا تکنیکی تبادلہ ہوا۔البانیز کے مطابق انہوں نے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین سے براہ راست بات کی اور واقعے کی اطلاع دینے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔آسٹریلوی حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ موجودہ قانونی اور سائبر سکیورٹی نظام خودمختار اے آئی نظاموں کے غیر متوقع اقدامات سے نمٹنے کیلئے کافی ہے یا نہیں، جبکہ اے آئی کمپنیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنانے پر غور کیا جائے گا۔یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی نے اے آئی ماڈلز کے غیر متوقع یا تشویش ناک رویوں کی نگرانی کیلئے نیا انکشافاتی نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق حالیہ عرصے میں ایسے چھ واقعات کی نشاندہی ہوئی جن میں ماڈلز نے متوقع طرز عمل سے ہٹ کر اقدامات کیے۔آسٹریلیا کا واقعہ اے آئی ایجنٹس کو ویب پر خودمختار طور پر کام کرنے، معلومات تلاش کرنے اور مختلف نظاموں سے تعامل کی اجازت دینے کے ساتھ ان کے اختیارات، نگرانی، جواب دہی اور حفاظتی حدود کے تعین سے متعلق عالمی بحث کو مزید اہم بنا رہا ہے۔ امریکا میں بھی مصنوعی ذہانت کیلئے عالمی معیارات کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سطح پر اے آئی کو کنٹرول کرنے کے نظام کی مخالفت کرچکے ہیں۔