کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) محققین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور جوہری تنازع سنہ ۲۱۰۰ تک انسانیت کی بقا کے لیے سنگین ترین خطرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔سائنسی جریدے ’’دی لانسیٹ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایسے ۱۷ تباہ کن خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسانی بقا اور صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان خطرات کا تعلق بیماریوں، سماجی و معاشی حالات، ماحولیاتی تبدیلیوں، جدید ٹیکنالوجی اور تنازعات سے ہے۔رپورٹ کی تیاری کے لیے ۲۰۴ ممالک اور خطوں میں سیکڑوں ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ انسانیت کی بقا کو لاحق دو بڑے خطرات کے علاوہ انسانی صحت کے لیے مزید ۱۵ سنگین خطرات کی نشاندہی کی گئی، جن میں فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، شراب نوشی، متعدی وبائیں، موٹاپا، تمباکو نوشی اور ذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔محققین نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ان خطرات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان کے باہمی تعلق کو سمجھیں اور بروقت اقدامات کریں۔ ان کے مطابق صحت، معیشت، ماحول، دفاع اور سلامتی سے متعلق آج کے فیصلے آنے والی نسلوں کی صحت اور معیارِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ خطرات کی سنگینی کے باوجود ان سے نمٹنے کے لیے اب تک خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ محققین کے مطابق ان ۱۷ خطرات کے حوالے سے موجودہ قیادت کے فیصلے مستقبل کی نسلوں کی صحت کا تعین کریں گے، جبکہ تاخیر سے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ ہر خطرے کے باعث بیماری، معذوری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے صحت مند زندگی کے کتنے سال ضائع ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے طبی نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی کے مختلف متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ خطرات ناگزیر نہیں ہیں۔ مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ذریعے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور مستقبل کی نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال اور جوہری تنازع انسانیت کیلئے بڑے خطرات قرار
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی