اسلام آباد (پاکستان خبر) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مل کر بیٹھنے پر آمادہ ہوں تو وزیراعظم آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا موازنہ کرنا درست نہیں، کیونکہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاق اور مسلح افواج سے مکمل تعاون کر رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی آپریشن کی مخالفت کرچکے ہیں۔سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو ایک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم دہشت گردی کے سنگین مسئلے سے نمٹنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ماضی میں دھرنا دینے والے رہنماؤں سے بھی رابطے کیے تھے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کو وزیراعظم سے ملاقات کی پیشکش کی گئی، لیکن بعض رہنماؤں نے اس سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی مذاکرات کے ذریعے انتخابات کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے قریب تھا، لیکن بعض رہنماؤں نے اپنی جماعت کی قیادت سے مشاورت کے بعد مؤقف تبدیل کرلیا۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے معاملے پر اختلاف سامنے آیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔معدنیات والے اضلاع میں ایمرجنسی پر سوالاتسینیٹر مشعال اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل رکھنے والے اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں گورنر راج لگایا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کرائی گئی تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد انسداد دہشت گردی کے لیے کیے گئے اقدامات بھی سامنے لائے جائیں۔مشعال اعظم نے دعویٰ کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے چند روز بعد ہی بین الاقوامی اداروں کو معدنیات نکالنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے قائم کونسل پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے بعض ارکان نے معذرت کرلی ہے، جبکہ ان کے بقول دو ارکان کا انتقال بھی ہوچکا ہے۔بلوچستان کے عوام دوہری اذیت کا شکار ہیں، مولانا عبدالواسعسینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ایک طرف دہشت گردی اور دوسری طرف حکومتی کارروائیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر کو اغوا کرلیا جاتا ہے اور مقامی افراد رقم جمع کرکے تاوان ادا کرتے ہیں، جبکہ صوبے میں روزگار کے معاملات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔پی ٹی آئی ملک اور حکومت کے خلاف سازش کر رہی تھی، افنان اللہسینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے تقریباً 3 ہزار واقعات ہوئے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ گورنر راج کی وجہ معدنیات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بقا میں ہی سب کی بقا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ضروری ہے۔گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفتسینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ ان کی جماعت نہ ایمرجنسی سے ڈرتی ہے اور نہ گورنر راج سے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی مینڈیٹ کو نقصان پہنچایا گیا اور سیاسی قیادت کو قید کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت امن چاہتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہزاروں افراد قربانیاں دے چکے ہیں۔سینیٹر گردیپ سنگھ نے بھی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایسے حالات نہیں تھے کہ یہ اقدامات کیے جاتے۔سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقیدسینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں سکیورٹی صورت حال تشویش ناک ہے اور سیاسی بنیادوں پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی کشیدگی میں اضافہ ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حالات خود اپوزیشن نے پیدا کیے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔سینیٹر وقار مہدی کی شکایت پر کارروائی کی یقین دہانیسینیٹر سید وقار مہدی نے شکایت کی کہ ایک شخص ان کی تصویر سوشل میڈیا پر استعمال کرکے لوگوں سے رقم مانگ رہا ہے، لیکن متعلقہ ادارے کو آگاہ کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس پر رانا ثنا اللہ نے انہیں اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رابطہ کرکے معاملہ حل کرانے کی کوشش کریں گے۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
دہشت گردی کے خلاف تمام جماعتیں متحد ہوں، وزیراعظم مذاکرات کیلئے تیار
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان