تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

زرعی انکم ٹیکس ہدف پورا نہ ہوا تو متبادل پلان تیار

زرعی انکم ٹیکس ہدف پورا نہ ہوا تو متبادل پلان تیار

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے معاملے پر عالمی مالیاتی فنڈ کو مطمئن کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیئے، جبکہ صوبوں کی جانب سے مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں متبادل حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے کے لیے 30 ستمبر تک انتظار کیا جائے گا۔ اس دوران ٹیکس اور گوشواروں کی وصولی کا مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہونے کی صورت میں متبادل منصوبہ اختیار کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی منظوری ملنے پر صوبوں کے ساتھ زرعی انکم ٹیکس کے لیے مقررہ شرح پر مبنی نظام متعارف کرانے پر بات چیت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں زرعی شعبے پر فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق تاجروں کی طرز پر کاشت کاروں اور زمینداروں کے لیے بھی اکتوبر میں مقررہ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں مسلسل تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس سے متعلق حتمی فیصلہ صوبوں سے موصول ہونے والے گوشواروں اور حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔