تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

زرعی انکم ٹیکس ہدف پورا نہ ہوا تو متبادل پلان تیار

زرعی انکم ٹیکس ہدف پورا نہ ہوا تو متبادل پلان تیار

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے معاملے پر عالمی مالیاتی فنڈ کو مطمئن کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیئے، جبکہ صوبوں کی جانب سے مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں متبادل حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے کے لیے 30 ستمبر تک انتظار کیا جائے گا۔ اس دوران ٹیکس اور گوشواروں کی وصولی کا مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہونے کی صورت میں متبادل منصوبہ اختیار کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی منظوری ملنے پر صوبوں کے ساتھ زرعی انکم ٹیکس کے لیے مقررہ شرح پر مبنی نظام متعارف کرانے پر بات چیت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں زرعی شعبے پر فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق تاجروں کی طرز پر کاشت کاروں اور زمینداروں کے لیے بھی اکتوبر میں مقررہ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں مسلسل تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس سے متعلق حتمی فیصلہ صوبوں سے موصول ہونے والے گوشواروں اور حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔