نیویارک( ویب ڈیسک)مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا غیر محفوظ استعمال آئندہ برس سائبر حملوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کو مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔امریکی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے جانے والے سائبر حملے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل تشویش ٹیکنالوجی کا خود قابو سے باہر ہونا نہیں، بلکہ ایسے افراد کا اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے جو حفاظتی رکاوٹوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے سخت ضابطوں اور مؤثر حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے، تاکہ جرائم پیشہ عناصر اس ٹیکنالوجی کو سائبر حملوں اور حیاتیاتی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔بل گیٹس کے مطابق جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام اگر حفاظتی اقدامات کے بغیر غلط ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو بالخصوص سائبر تحفظ کے شعبے میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے گزشتہ اگست میں بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی بڑی تبدیلیوں، خصوصاً روزگار پر اس کے ممکنہ اثرات، سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف سے بھی اختلاف کیا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیاں اپنی نگرانی اور ضابطہ بندی کے ذریعے ان خطرات پر مؤثر قابو پاسکتی ہیں۔بل گیٹس کا کہنا تھا کہ انسانوں کی تیار کردہ خطرناک ترین ٹیکنالوجیز میں شمار ہونے والی مصنوعی ذہانت کی نگرانی صرف متعلقہ کمپنیوں پر نہیں چھوڑی جاسکتی، کیونکہ معاشرے کے تحفظ کے لیے موجودہ انتظامات کافی نہیں ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے سائبر حملوں اور حیاتیاتی دہشت گردی کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ ہے:بل گیٹس کا انتباہ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی