تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

چینی نجی کمپنی کا راکٹ خلا میں پہنچ کر کامیابی سے زمین پر واپس لینڈ کرگیا

چینی نجی کمپنی کا راکٹ خلا میں پہنچ کر کامیابی سے زمین پر واپس لینڈ کرگیا

بیجنگ( ویب ڈیسک) چین نے قابلِ دوبارہ استعمال خلائی راکٹ کی تیاری میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایک نجی کمپنی کے راکٹ کو زمین کے مدار میں بھیجنے کے بعد کامیابی سے واپس لینڈ کرا لیا۔چینی نجی کمپنی لینڈ اسپیس کے راکٹ ژوئی چھیو 3 نے مدار میں پہنچ کر سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا اور بعد ازاں بغیر کسی بیرونی معاونت کے زمین پر واپس آکر کامیاب لینڈنگ کی۔کمپنی کے مطابق راکٹ اپنی لینڈنگ ٹانگوں کے ذریعے براہِ راست زمین پر اترا اور کامیابی سے کھڑا ہوگیا، جو چین کی نجی خلائی صنعت کے لیے ایک اہم تکنیکی پیشرفت ہے۔ اس تجربے سے راکٹ کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور مستقبل میں بار بار استعمال کی صلاحیت کا بھی عملی مظاہرہ ہوا۔ژوئی چھیو 3 کی ساخت اور صلاحیتیں SpaceX کے فالکن 9 سے کسی حد تک مشابہ ہیں، تاہم دونوں راکٹوں میں استعمال ہونے والا ایندھن مختلف ہے۔ فالکن 9 مائع آکسیجن اور راکٹ گریڈ کیروسین استعمال کرتا ہے، جبکہ چینی راکٹ مائع آکسیجن کے ساتھ مائع میتھین سے چلتا ہے۔ژوئی چھیو 3 کو شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس زون سے روانہ کیا گیا۔ یہ اس کی دوسری آزمائشی پرواز تھی، جس میں راکٹ نے مدار میں پہنچ کر سیٹلائٹ چھوڑنے کے بعد کامیابی سے زمین پر واپسی کی۔چین کی جانب سے اس کامیابی کو قابلِ دوبارہ استعمال راکٹوں کے پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔