اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) چین کی آٹو موبائل صنعت نے رواں سال گاڑیوں کی برآمدات میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اگست تک چینی گاڑیوں کی برآمدات گزشتہ پورے سال کی مجموعی تعداد سے تجاوز کر گئی ہیں۔مغربی منڈیوں میں تجارتی رکاوٹوں اور چین میں اضافی پیداواری صلاحیت کے باعث چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیوں کا رخ کر رہی ہیں، جس سے پاکستان کو بھی صنعتی اور توانائی کے شعبوں میں نئے مواقع میسر آ رہے ہیں۔پاکستان میں چینی کمپنیوں کی توسیع نے تین دہائیوں سے ملکی آٹو مارکیٹ پر نمایاں رہنے والی ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کی روایتی بالادستی کو چیلنج کیا ہے۔مختلف چینی برانڈز نے خصوصاً ایس یو وی اور کراس اوور گاڑیوں کے شعبے میں اپنی موجودگی مضبوط بنائی ہے، جبکہ بی وائی ڈی، ڈیپال اور دیگر کمپنیوں کی آمد سے برقی گاڑیوں کی مارکیٹ بھی تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔پاکستان کی نئی انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 بھی اس تبدیلی کو تقویت دے رہی ہے۔ پالیسی کے تحت 2030 تک نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اور 2040 تک 50 فیصد حصہ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ 2030 تک 3 ہزار عوامی تیز رفتار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے، روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر کاربن محصول عائد کرکے برقی گاڑیوں کے لیے مراعات فراہم کرنے اور چارجنگ ٹیرف تقریباً 40 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ تک محدود رکھنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔برقی گاڑیوں کی جانب منتقلی پاکستان کے لیے صرف ماحولیاتی اعتبار سے ہی اہم نہیں بلکہ توانائی اور زرمبادلہ کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان ہر سال بڑی مقدار میں پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، جس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، جبکہ ملک کے بجلی کے شعبے کو اضافی پیداواری صلاحیت اور کم طلب جیسے مسائل کا سامنا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق برقی گاڑیوں کی درآمد اور مقامی اسمبلی سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ کا فائدہ اس وقت محدود ہوسکتا ہے جب گاڑیوں کے بیٹری پیک، برقی نظام، موٹرز اور دیگر اہم پرزے بیرون ملک سے درآمد کیے جائیں۔پاکستان کے لیے اہم چیلنج چینی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو صرف گاڑیوں کی اسمبلنگ تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی صنعتی صلاحیت میں تبدیل کرنا ہے۔اس مقصد کے لیے بیٹری پیک اسمبلی، وائرنگ ہارنسز، کاسٹنگ، پلاسٹکس، گاڑیوں کے اندرونی حصوں، چارجنگ آلات اور حرارتی انتظام جیسے شعبوں میں مقامی پیداوار کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ بیٹری سیلز اور جدید سیمی کنڈکٹرز جیسی پیچیدہ ٹیکنالوجی فوری طور پر پاکستان میں تیار کرنا مشکل ہے، تاہم ویلیو چین کے ان شعبوں میں مقامی سرمایہ کاری ممکن ہے جہاں ملک مسابقتی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے۔چارجنگ انفراسٹرکچر بھی برقی گاڑیوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ پاکستان میں برقی گاڑیوں کے ساتھ ہائبرڈ گاڑیوں کا مقابلہ بھی بڑھ رہا ہے، کیونکہ جاپانی کمپنیاں اپنی ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
چینی گاڑیوں کی برآمدات میں ریکارڈ، پاکستان میں نئی مارکیٹ تشکیل پانے لگی
واپس خبروں پر
Category:
کامرس