کیلیفورنیا (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اے آئی نظام ’کلاؤڈ‘ نے انسانی ڈی این اے میں ایسا انزائم سسٹم دریافت کیا ہے جو اس سے پہلے نامعلوم تھا۔کمپنی کے مطابق یہ دریافت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور نئے نظام کے حقیقی افعال، حیاتیاتی اہمیت اور ممکنہ طبی استعمال کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔اینتھروپک نے اس دریافت کو جینیاتی تحقیق میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ’کرسپر‘ سے مشابہ قرار دیا، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیا انزائم سسٹم بھی کرسپر کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔کرسپر ڈی این اے میں تبدیلی اور جینیاتی تحقیق کے لیے استعمال ہونے والی اہم ٹیکنالوجی ہے، جس کی دریافت اور ترقی پر 2020 میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔اینتھروپک نے اس اعلان کے ساتھ کیلیفورنیا میں قائم اپنی حیاتیاتی تحقیقاتی لیب کے بارے میں بھی پہلی مرتبہ عوامی سطح پر بتایا ہے۔ کمپنی کے مطابق لیب میں کلاؤڈ کے ذریعے حیاتیاتی تحقیق سے متعلق مفروضے تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں بعد ازاں عملی تجربات کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔