تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ہمدردی قانون کی جگہ نہیں لے سکتی:وفاقی آئینی عدالت

ہمدردی قانون کی جگہ نہیں لے سکتی:وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد( پاکستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ ہمدردی یا ذاتی اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے اور ججز کو انصاف کے فیصلے قانون کے مطابق کرنے ہوں گے۔مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ججز کو جذبات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتی اور عدالتی ساکھ صرف قانون پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا، جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ قانون یا ریگولیشن میں ایسی کوئی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ذاتی ہمدردی یا احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔عدالت نے مزید کہا کہ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان افراد کے تحت نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔ ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں اور انہیں صرف وہی اختیار حاصل ہے جو قانون یا آئین میں دیا گیا ہو۔ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔واضح رہے کہ یہ معاملہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم سے متعلق تھا، جو گردے کی پیوند کاری کی وجہ سے سالانہ امتحان اور سپلیمنٹری امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ طالبعلم کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو دی گئی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔