اسلام آباد( پاکستان خبر) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق اقدامات کیے گئے ہیں اور صوبائی کابینہ میں اب دہشت گردوں کا کوئی ہمدرد موجود نہیں۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ایسی حکومت نہیں چل سکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتی ہو یا ایسی پالیسیاں اپنائے جن سے دہشت گردوں کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع ملے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے مذاکرات کر رہی تھی۔ ان کا سوال تھا کہ ایک ہی ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دو مختلف پالیسیاں کیسے اختیار کی جاسکتی ہیں؟وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئین بنانے والوں نے 1973ء کے آئین میں متعلقہ دفعات ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کی تھیں، اس لیے خیبر پختونخوا میں آئینی اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اقدامات کیے گئے۔عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا تھا اور امن و امان کی صورتحال بھی انتہائی خراب تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اطلاعات کے مطابق جن علاقوں میں دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو محفوظ راستہ بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کے مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ان علاقوں میں دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں تو مارچ کو وہاں سے بحفاظت گزرنے کی اجازت کیسے مل گئی؟ ان کے مطابق، مارچ کے ان علاقوں سے گزرنے کے معاملے میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں آئینی اقدامات کیے، کابینہ میں اب کوئی دہشت گردوں کا ہمدرد نہیں، عطاء تارڑ
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان