کراچی( کامرس ڈیسک) ناموافق موسم اور ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باوجود ملک کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قومی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد بڑھ گئی۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی پندرہ روزہ رپورٹ کے مطابق 15 اگست تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 11 لاکھ 14 ہزار گانٹھوں کے برابر کپاس پہنچی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 3 لاکھ 79 ہزار گانٹھوں کے برابر کپاس پہنچی، جس میں سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سندھ میں 7 لاکھ 34 ہزار گانٹھوں کے ساتھ 42 فیصد کا ریکارڈ اضافہ سامنے آیا۔کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کے اعداد و شمار میں صوبے کی کپاس کی پیداوار پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار سے 35 فیصد زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔ 16 سے 21 اگست کے دوران کپاس کی آمد میں مزید اضافے کی توقع ہے، جس سے روئی اور پھٹی کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل ملوں نے 9 لاکھ 51 ہزار گانٹھیں جبکہ برآمد کنندگان نے 13 ہزار گانٹھیں خریدی ہیں۔ جننگ فیکٹریوں میں ایک لاکھ 63 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔اس وقت پنجاب میں 112 جبکہ سندھ میں 156 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں۔